Top 20 Faiz Ahmad Faiz Sher Posted by Unknown on Saturday, February 24, 2018 Get link Facebook X Pinterest Email Other Apps آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا اور کیا دیکھنے کو باقی ہے آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے کر رہا تھا غم جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے نہ گل کھلے ہیں نہ ان سے ملے نہ مے پی ہے عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی تیرے قول و قرار سے پہلے اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں Comments
Comments
Post a Comment